اہل البیت نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی نے ملکی خارجہ پالیسی کے کارگزاروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی عالمی روابط کی سطح پر "تسلط پسندانہ نظام کے خلاف باہمی تعامل" کی پالیسی کے نام سے نئی پالیسی اور نئی منطق کا مروج ہے اور تسلط پسندانہ نظام کی مخالفت کی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لئے معیاری، مضبوط اور کارساز سفارت کاری کا استعمال اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور نمائندے کا فریضہ ہے جس کا لازمہ انقلاب کے اصولوں اور شرعی بنیادوں پر ثابت قدمی اور ان اصولوں اور بنیادوں کے سلسلے میں ہر طرح کے تکلف سے پرہیز کرنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تسلط پسندانہ نظام کی مخالفت کی پالیسی کا نفاذ اسلامی جمہوریہ ایران تک ہی محدود ہے، تسلط پسندی میں دو فریق ہوتے ہیں ایک تسلط پسند اور دوسرا تسلط پذیر، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے روز اول سے ہی صراحت کے ساتھ اعلان کر دیا کہ وہ تسلط پسند نہیں ہے اور کسی بھی ملک کا تسلط قبول نہیں کرتا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے "تسلط پسندی کی مخالفت" کی پالیسی جدید اور بالکل نئی پالیسی قرار دیا اور عالمی سطح پر حکومتوں، شخصیات اور دانشوروں کی جانب سے اس پالیسی کی زبردست پذیرائی کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: تسلط پسندانہ نظام کی مخالفت پر استوار پالیسی کو بڑی مستحکم اور اسٹریٹیجک حمایتیں حاصل ہے جن میں سے ایک اسلامی انقلاب کی عظیم عوامی حمایت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: عوام کی زوردار تحریک اوائل انقلاب سے اب تک ذرہ برابر بھی ماند نہیں پڑی ہے؛ آپ نے کس ملک میں دیکھا ہے کہ 31 سال گزر جانے کے بعد انقلاب کی سالگرہ کے جشن میں عوام کی شرکت میں نہ صرف کوئی کمی واقع نہ ہوئی ہو بلکہ نمایاں اور قابل توجہ اضافہ ہوا ہو؟ یہ عوامی تعاون و شراکت کا سرمایہ بےحد اہم ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کا طرہ امتیاز ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے سائنسی اور تکنیکی شعبے میں ایرانی سائنسدانوں کی مبہوت کن کامیابیوں کو تسلط پسندی کی مخالفت کی پالیسی کا ایک اور سہارا قرار دیا اور فرمایا کہ ان سہاروں میں سے ایک جمہوریت کا سب سے اعلی مظہر کے عنوان سے "انتخابات" میں عوام کی بے مثل شرکت ہے جس میں کمی آنا تو دور کی بات، بلکہ اس میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ملک میں مختلف حکومتوں میں انجام پانے والے وسیع ترین تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں اور جامع ترین سماجی سرگرمیوں کو بھی تسلط پسندی کی مخالفت کے لئے ایک اور بڑی کمک قرار دیا اور فرمایا کہ یہ سارے تزویری سہارے ملک سے باہر اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندوں کی خود اعتمادی کا ذریعہ اور بلند ہمتی کا موجب ہیں جن پر بھروسہ کرتے ہوئے وہ عزت، حکمت اور مصلحت جیسے تین اصولوں کی بنیاد پر تسلط پسندانہ نظام کی مخالفت کی پالیسی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس پالیسی کو آگے بڑھانے کے لئے سفارتی طاقت کا استعمال بہت اہم قرار دیا اور فرمایا: سفارت کاری کی طاقت و تاثیر فوجی، تشہیراتی اور مالی طاقت سے کم نہیں بلکہ بسا اوقات زیادہ ہوتی ہے لہذا تسلط پسندی کی مخالفت کی سیاست کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مضبوط، کارساز اور عقل و منطق اور خود اعتمادی پر استوار سفارت کاری بروئے کار لانا ضروری ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مضبوط اور کارساز سفارت کاری کے لئے، شرعی اصولوں اور اسلامی انقلاب کے اصولوں اور افکار پر یقین کامل کو سب سے پہلی ضرورت قرار دیا اور فرمایا کہ سفارتی سطح پر قومی خود اعتمادی کے ساتھ اور دینی بنیادوں اور انقلابی اصولوں پر ثابت قدمی کے سلسلے میں کسی بھی تکلف کے بغیر عمل کرنا چاہئے۔رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے انقلابی اصولوں اور شرعی بنیادوں پر ثابت قدمی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارت کاری کا بہت موثر پہلو قرار دیا اور فرمایا کہ عقل و منطق کے ساتھ یہ استقامت، استحکام کی عکاس ہے جو دوسرے فریق کو احترام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مغرب والوں کے رنگ میں رنگنے کے لئے مغربی انداز، روش اور تکلفات کو اپنانے کی ضرورت پر مبنی گزشتہ برسوں میں نظر آنے والے نطریات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ چند افراد اس خیال میں تھے کہ مغربی چیزوں کی نقل کرکے اور ان کے سامنے جھک کر ہمارے مقام و مرتبے میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ مغرب والوں کی باتیں اور انداز فرسودہ اور دو سو سال قبل کے زمانے سے متعلق ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ کی سیاست اور اس کا پیغام تر و تازہ اور موثر ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ملک کی وزارت خارجہ کی سطح پر انجام دئے جانے والے اقدامات کی قدردانی کرتے ہوئے سفارت کاری کی سطح پر اور عالمی چیلنجوں کے مقابلے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابیوں کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ مثال کے طور پر ایٹمی مسئلے میں اسلامی نظام کے خلاف بڑے پیمانے پر دروغ گوئی، ہنگامے اور شدید دباؤ کے باوجود دنیا کے طاقتور ممالک اپنے مقاصد پورے نہیں کر سکے جس سے اسلامی جمہوریہ ایران کے ڈھانچے اور بنیادوں کے عظیم استحکام اور مضبوطی کا پتہ چلتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے شروع میں ہی اعلان کر دیا کہ وہ بجلی کی پیداوار سمیت پر امن مقاصد میں استعمال کے لئے جوہری ٹکنالوجی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس معاملے میں امریکا اور برطانیہ سمیت بعض مغربی ممالک اور صیہونیوں کے زہریلے پروپیگنڈے اور ہنگامہ آرائی پوری طرح بے بنیاد ہے اور خود یہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ جھوٹ بول رہے ہیں اور اس قسم کی مخالفتوں کا نقصان بھی انہیں کو اٹھانا پڑے گا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ گوناگوں دباؤ کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی ٹکنالوجی کے شعبے میں متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں اور جہاں تک ضرورت پڑی وہ پیشرفت کرے گا تاکہ اس سائنسی اور تکنیکی شعبے میں خود کفا ہو جائے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کی کارکردگی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے فرمایا کہ ایجنسی کی بعض رپورٹیں اور اقدامات اس عالمی ادارے میں آزادی عمل کے فقدان کی غمازی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو امریکا اور بعض دیگر ممالک کے دباؤ میں نہیں رہنا چاہئے کیونکہ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات سے ایجنسی اور اقوام متحدہ کا اعتبار ختم ہو جائے گا اور یہ چیز ان عالمی اداروں کی حیثیت و آبرو کے لئے بہت بری ثابت ہوگی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ وزارت خارجہ کی کارکردگی کی بنیاد تسلط پسندانہ نظام کی مخالفت کی پالیسی کو آگے بڑھانا اور مضبوط سفارت کاری کے ذریعے عالمی روابط پر اپنا اثر ڈالنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ معیاری سفارت کاری پر پہلے سے بھی زیادہ توجہ دی جائے اور سفارتی سطح پر ہر ملاقات اور ہر بیان پوری طرح نپا تلا اور صحیح اندازوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں سفارت کاری اور مذاکرات کے پیچیدہ فن کی ظرافتوں سے آشنائی کو ملک کے سفارت کاروں کے لئے نہایت اہم قرار دیا اور فرمایا کہ عمومی سفارت کاری اسلامی جمہوریہ ایران کی جدت ہے جس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آپ نے بیرون ملک مقیم ایرانیوں سے موثر اور مستحکم روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس ملاقات کے آغاز میں وزیر خارجہ منوچہر متکی نے بیرون ملک مصروف کار اسلامی جمہوریہ ایران کے نمایندوں اور سفارت کاروں کے اس سال کے اجلاس کا ایجنڈا عالمی انتظامی سسٹم میں تبدیلی اور انصاف پر مرکوز سفارت کاری قرار دیا اور کہا کہ علاقے کے سیاسی اور اقتصادی امور میں ایران کی پوزیشن کی تقویت، قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ، اسلامی یکجہتی کے جذبے کی ترویج، فلسطین اور لبنان میں اسلامی مزاحمت کا دفاع اور بڑی طاقتوں کی تسلط پسندی اور مداختلوں کا مقابلہ ایران کی خارجہ پالیسیوں کی اہم ترجیحات ہیں۔ وزیر خارجہ نے اسی طرح علاقے، دولت مشترکہ، ایشیا، افریقا، لاطینی امریکا اور یورپ کے حلقوں میں وزارت خارجہ کی کارکردگی کی بریفنگ دی اور زور دیکر کہا کہ ان تمام خطوں میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ تین اصولوں، وقار، حکمت اور مصلحت کے تناظر میں عالمی سطح پر دانشمندانہ انداز میں تعلقات قائم کئے جائیں۔
.................
/110
بشکریہ از پایگاه دفتر مقام معظم رهبری